نئی دہلی ، 12؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے آرٹیکل370پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل370کو نہ تو میں واپس لاسکتا ہوں نہ کانگریس لاسکتی ہے، نہ شرد پوار اور نہ ہی ممتا بنرجی-کشمیری عوام آرٹیکل 370 کی دوبارہ بحالی کاخواب نہ دیکھیں۔ مزید کہا کہ تمام سیاسی لیڈران جھوٹے وعدے کررہے ہیں لیکن میں جھوٹا وعدہ نہیں کرسکتا-
بتاتے چلیں کہ بعض مبصرین کے نزدیک غلام نبی آزاد کے جموں و کشمیر میں اپنی ایک نئی پارٹی کا اعلان کرنا مودی حکومت کا جموں و کشمیر کےلئے ایک گیم پلان کا حصہ ہوسکتا ہے۔ اب جبکہ غلام نبی آزاد نے کھلا اعلان کیا ہے کہ کشمیر کے عوام آرٹیکل 370 کی بحالی کی اُمید نہ رکھیں، مبصرین کی رائے کو مزید تقویت ملتی نظر آرہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بارہمولہ میں ایک عوامی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نےکہا کہ دفعہ 370 کی بحالی کیلئے سب سے پہلے راجیہ سبھا میں دوتہائی اکثریت ہونی چاہئے جو آج کسی بھی اپوزیشن پارٹی کے پاس نہیں ہے - لہٰذا اس قانون کی واپسی کے متعلق جو کچھ کہا جارہا ہے وہ گمراہ کن ہے - غلام نبی آزاد نے اسی ریلی میں کہاکہ وہ آئندہ10دن میں نئی پارٹی کا اعلان کریں گے-
واضح رہے کہ کانگریس چھوڑنے کے فوراً بعد غلام نبی آزاد نے کہا تھاکہ میں جموں وکشمیر آرہا ہوں - اس73سالہ لیڈر نے 26/اگست کو کانگریس چھوڑنے سے پہلے، پارٹی میں تقریباً پانچ دہائیاں گزاریں - پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں رہے- جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر سمیت دیگر کئی اہم عہدوں پر کام کیا-
کانگریس کے سابق لیڈر غلام نبی آزاد نے ہفتہ کے روز کانگریس کے اس بیان پر پلٹ وار بھی کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کا ریموٹ کنٹرول پی ایم مودی کے ہاتھوں میں ہے- یہ اشارہ دیتے ہوئے کہ کانگریس لیڈروں کا ریموٹ کنٹرول، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں تھا، آزاد نے میڈیا سے کہا کہ وہ کسی کے ذریعہ کنٹرول نہیں ہیں - میں ان کی طرح نہیں ہوں، جن کا ریموٹ کنٹرول کہیں اور ہے- میرا ریموٹ کنٹرول میرے پاس ہے- میں آزاد ہوں - وہ غلام ہیں - میں نبی (پیغمبر)کا غلام ہوں - وہ کسی اور کے غلام ہیں - میں یہ بے نقاب نہیں کرنا چاہتا کہ کانگریس یا دیگر پارٹیوں کے لیڈرس کس کے کنٹرول میں ہیں -
گزشتہ8ستمبر کو جموں کے بھدرواہ میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے انکشاف کیا کہ انہوں نے کانگریس پارٹی سے استعفیٰ دینے کے بعد سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پر عوامی تبصرے کیوں کئے- کانگریس کی طرف سے میرے لئے توہین آمیز زبان استعمال کرنے کے بعد مجھے جواب دینے کیلئے مجبور ہونا پڑا- سونیا گاندھی کو لکھے گئے اپنے استعفیٰ نامہ میں غلام نبی آزاد نے راہل گاندھی پر کانگریس کی بربادی کا ٹھیکرا پھوڑا تھا- انہوں نے سینئر لیڈروں کو درکنار کرنے، ان کے کام کے طریقہ کو نافذ نہیں کرنے، جی23-لیڈروں کی توہین کرنے والوں کا استقبال کرنے اور صدر نہیں ہونے کے باوجود راہل گاندھی کے ذریعہ کانگریس کو کنٹرول کرنے پر سوال کھڑے کئے تھے-